Monday, 18 July 2016
شاهیل کی یاد میں
شاهیل شوکت جنہیں ذوق نعت رکهنے والے شاهیل قادری کے نام
سے جانتے ہیں حکم الہی سے اب ہم میں نہیں رہے اللہ شاهیل کی مغفرت فرمائے ،ا للہ واحد ذوق نعت رکهنے کی بناء شاهیل کو اب آنے والے مراحل میں آسانی و کامیابی عطا فرمائے .... میں انجمن طلباء السلام کی جانب سے مرحوم کے تمامی سوگواروں سے تعزیت ان لمحات میں رنج کا اظہار کرتا ہوں....
شاهیل شوکت سے میری شناسائی اس دور سے ہے کہ جب شاید شاهیل اس عمر میں بهی نہیں تها کہ وہ کسی کو پہچان سکے ،شاهیل اور میں عثمان گرامر اسکول کے ہی طالب علم ہیں اور وہ مجهہ سے عمر کے اعتباراور کلاس سے اعتبار سے غالبا 4سال چهوٹا تها، میری انکهوں میں اس وقت وہ مناظر آ رہے ہیں کہ جب اکثر شاهیل اسکول دیر سے پہنچتا تها اور کبهی پرنسپل کی ڈاٹ سے بچهنے کیلیے اپنی والدہ کو لے آتا تها .... خیر اسکول کی زندگی کے بعد کبهی کوئی بات یا ملاقات نہیں ہوئی بجز ان 3ملاقاتوں کہ جو میرے ساتهہ ہوئیں ،ایک روز اتفاقا میرا محفل نعت میں جانا ہوا تو میں نے شاهیل کو انتهائی خوش گو کلام جو کہ علامہ اقبال کا تحریر کردرہ تها (اللہ بهی ایک قرآن بهی ایک ...) پڑهتے سنا دل کو سکون سا محسوس ہوا اور دیکهہ کر انتہائی خوشی ہوئی کہ اللہ تعالی نے شاهیل کو کس عظیم کام میں لگا رکها ہے، اس موقع پہ اگرچہ ملاقات تو ہو نہ پائی البتہ
ہماری "بزم فیضان صدیق اکبر" جو ہر ہفتہ اتوار کے روز مختلف مقامات پر محفل ذکر و نعت کا اہتمام کیا کرتی تهی تو اس مقام کو غنیمت جانتے ہوئے غلبا بهائی شہروز قادری کے توسط سے شاهیل سے رابطہ کیا اور کیا تها کہ بس پرانی نسبت کا ملنا تها اور شاهیل آنے پہ آمادہ ہوگیا مجهے بہت اچهی طرح یاد ہے کہ اس ہفتہ محفل ذکر و نعت محمد شعیب علی کہ گهر تهی اور محفل میں بس ہم چار ہی شرکاء تهے جن میں بهائی محمد حسان ،بهائی شعیب، میں اور بهائی شاهیل .... مجهے شرم بهی محسوس ہورہی تهی کہ زمانے بعد ملاقات کا تاثر نہ جانے کیا گیاہو.... بهائی شاهیل نے دل جمی کے ساته کلام پڑهے بلکہ میری فرمائش پہ بابا اقبال کا وہ کلام بهی سنایا جس کا تذکرہ اوپر گزرا.
شاهیل کی ثناء خوانی کا میعار ہی یہ تها کہ وہ مستند و جامع کلام کا انتخاب کرتا تها لہجہ بهی چونکہ دهیمہ اور طبیعت بهی خاموش تهی ...محفل کے اختتام پہ ہم لنگر تناول کرنے دوران گزرے وقت کی باتیں میں محو ہوئے، اس دوران شاهیل اسد بهائی کر کے مخاطب کر رہا تها .... ہائے...... یوں نشست برخواست ہوئی ، اس نشست کےبعد باضابہ ملاقات علامہ مظفر حسین شاہ قادری حفظہ اللہ کے دروس محرم الحرام کے حوالے سےپوسٹرز علاقہ مں آویزا کرنے کےلیے بهائی فہد قادری نےیاد فرمایا تو اس دوران شاهیل بهی آ پہنچا اور ہم ایک موٹر سائیکل پہ سوار ہوکر شاہ فیصل کے مختلف علاقوں میں پہنچے مجهے یاد آتا ہے کہ ڈرگ روڈ کینٹ بازار میں گهر سےفون آنے کی بناءوہ چل نکلےتهے.
کچهہ ہی دنوں میں دروس محرم کا آغاز ہو ا اور شاہ فیصل کی ایک بڑی تعداد فارن کلب نیشنل اسٹیڑیم موجود تهی اور اسی دوران جب یہ اطلاع پہنچی تو طبیعت کو انتہائی گراں گزری کہ بهائی شاهیل اس روز ہمارے ساته تهے اور اب ہسپتال میں زندگی سے جنگ لڑ رہے ہیں بعد کو معلوم ہوا کہ طبیعت میں افاقہ ہونے کی بناء گهر کو واپس آپہنچے ہیں چنانچہ وقت مناسب پہ عیادت کی غرض سے اس سے آخری ملاقات آہوئی ... اور پهر ہم کبهی نہیں مل سکے.....
اللہ کریم نبی پاک صاحب لولاک صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے شاهیل کے درجات بلند فرمائے اور بروز محشر لوائے حمد کے سائے میں ہماری اس سے ملاقات مقدر
فرمائے
Sunday, 12 June 2016
Sunday, 8 May 2016
عثمانیہ ریسٹورینٹ - سُپر ہائی وے کراچی کا کامیاب تجربہ
عثمانیہ ریسٹورینٹ - سُپر ہائی وے کراچی
مقام: کراچی سے حیدرآباد کی سمت ٹول پلازہ سے ۱۰ منٹ کے سفر پہ بائی جانب (بحریہ ٹاون سے چند قدموں پہلے)
مناسب وقت: رات ۸ سے ۱۱کے درمیان
انتظامات: ماحول خوش گوارومحفوظ، نشستی مناسب انتظامات (فلحال بچوں کے لیے تفریح کا انتظام نہیں)
کھانے کا معیار: ذائقہ لزیز، معیار بہترین
آفیشلز،فیملی و دوستوں کی محفل کے لیے موضوع ترین
اخراجاتی زاویہ: انتہائی مناسب
مقام: کراچی سے حیدرآباد کی سمت ٹول پلازہ سے ۱۰ منٹ کے سفر پہ بائی جانب (بحریہ ٹاون سے چند قدموں پہلے)
مناسب وقت: رات ۸ سے ۱۱کے درمیان
انتظامات: ماحول خوش گوارومحفوظ، نشستی مناسب انتظامات (فلحال بچوں کے لیے تفریح کا انتظام نہیں)
کھانے کا معیار: ذائقہ لزیز، معیار بہترین
آفیشلز،فیملی و دوستوں کی محفل کے لیے موضوع ترین
اخراجاتی زاویہ: انتہائی مناسب
ًٍ- مشہور جملہ ہے کہ انسان سفر کرنے کے لیے کھانا کھایا کرتا تھا جبکہ آج کل کے لوگوں نے روایت تبدیل کرتے ہوئے کھانے کے لیے سفر کرنا شروع کر دیا ہے
عثمانیہ ریسٹورینٹ - سُپر ہائی وے کراچی میں واقع نخلستان میں چمن کی مانند مصرفیات و فکرات سے دوراطمینان، سکون،کھانے و وقت گزارنے کی مناسب جگہ ہے جوکراچی سے حیدرآباد کی سمت ٹول پلازہ سے ۱۰ منٹ کے سفر پہ بائی جانب (بحریہ ٹاون سے چند قدموں پہلے) واقع ہے، کافی عرصے سے شعوری زندگی سے مطلق دوست یہ پلان کر رہے تھے کہ کسی ایسی جگہ کا انتخاب کیا جائے کہ جہاں زیادہ سے زیادہ وقت ساتھ گزارا جائے اور اسی بہانے ساتھ بیٹھنے اور کھانے کا موقع بھی میسر آجائے گا، اس سوچ نے کہی جگہوں کا نام تجویز کیا پر ہر ایک سے ہم واقف اور بری طرح اکتا چکے تھے، ان جگہوں میں دو دریا، بوٹ بیسن، حسین آباد، ملیر شامل تھا اتفاق سے زین بابا نے رائے دی کیوں نا اس بار ہائی وے کو آزمایا جائے، سوال پھروہی تھا کہ ہائی وے کا ایک سرا کراچی اور دوسرا اسلام آباد ہے بھلا کوئی ایسا فاصلہ رکھا جائے کہ جہاں لُونگ ڈراو بھی ہو وقتِ مناسب پہ واپسی بھی، مختلف ناموں کی تجویز آئی اُن میں ایک نام ذوہیر نے عثمانیہ ریسٹورینٹ کا دیا جسے ہم کراچی میں بیت المکرم سے عقب میں موجود عثمانیہ ریسٹورینٹ کی شاخ سمجھے(اس عثمانیہ ریسٹورینٹ کی ایک شاخ مری مال روڈ پہ بھی موجود ہے)، اس پہ بابا نے احسن کمال کے شبے کا ازالہ کیا اور اس جگہ کی وضاحت کرتے ہوئے اس کی تعریف و اپنے تجربے کا اظہار بھی کیا،بلاآخر شب ِ اتوا ر ہم دلچسپ آغاز کے ساتھ کمالے سے مزے کی چسکیاں لیتے ہوئے تلاش و بسیار کے بعد بلاآخرعثمانیہ ریسٹورینٹ پہنچ ہی گئے پر راستے میں ہونے والی مڈ بھیڑ میں سے یہ بھی تھا کہ ہم میں سے چونکہ صرف زین بابا ہی اُس جگہ اور اُس کے ذائقہ سے واقف ہیں تو کیوں نہ ہم اپنے مزہ کو بے مزہ تجربے میں تبدیل ہونے سے پہلے ہی اپنا ارادہ ترک کریں اور راستے میں موجود واقف جگہوں جیسے الحبیب،سجاد وغیرہ پہ ہی جا کر وہی ذائقہ و مزہ لیں پر ساتھی دوست (بابا) کا یہ جملہ کانوں میں گنجتا محسوس ہوتا تھا کہ ایک دفعہ وہاں جاکر کھانا بنتے دیکھ تو لوں اگر پسند نہ آئے تو زیادہ سے زیادہ کیا ہوگا تجربہ؟ لیکن اگر جگہ اور کھانا پسند آئے تو پھر کیا ہوگا؟ صرف یہ سوچ(ہماری دوستی کو الحمدللہ ۶ سال بیت گئے ہمیں اندازہ تو ہے کہ زین کھانے کے ذائقہ کی متعلق کبھی سمجھوتہ نہیں کرنے والا خیر بس اِسی ہاں و ناں میں بلاآخر ہم اپنی منزلِ مقصد پہ پہنچ ہی گئے،پارکنگ کا ماقول انتظام تھا انگڑائی لیتے ہوئے سواری سے باہر آئے)۔۔۔ پہلی نظر جیسی ہی ریسٹورینٹ کے ماحول و اطراف کے پُرسکون انتظامات پہ پڑی تو محسوس ہوا کہ تجربہ کامیاب ہونے جا رہا ہے، ہم بیٹھک میں تشریف رکھنے سے پہلے ریسٹورینٹ کے باورچی خانے میں داخل ہوئے اور انتہائی خوش گو خانصامہ کو اپنا آرڈر لکھوایا،اپنے ہاتھوں مٹن(کڑاہی کے لیے)، چکن(بلوچی تکہ کے لیے)ا ور مچھلی خانصامہ کے سُپرد کی
اسی دوران ہماری بیٹھک پہ معمورذمہ دار نے ہمیں انتہائی محبت اور چہرے کے مسرت نما تاثر کے ساتھ جگہ دی اور دورانِ انتظار کہوے کی پیشکش کی جسے ہم نے قبول کیا اور منٹوں میں کہوا ہمارے گوش گزار کر دیا گیا، کہوے کا انداز ومزہ بلوچ طرز پہ تھا، انتظار کے دورانیہ وقت میں روز مرہ کی زندگی تعلیمی و کاروباری زندگی پہ بات و لفظوں کی تکرار ہوئی اور وقت پتہ ہی نہ چلا
اور ہمارا کھانا تیا ر ہوکر ہمارے سامنے تھا، ابھی ڈھکے برتن کھولے ہی تھے کہ بابا نے اپنا موبائل نکالا اور یوں تصویروں اور سیلفی کا دور دورا ہوا، میں نے آغاز میں پہلے تیار اشیاء کا جائزہ و خوشبو سے اپنے آپ کو لطف اندوز کیا اور بسم اللہ الرحمن الرحیم کے ساتھ آغاز کر دیا، سب سے پہلے تمام دوست مچھلی پہ ٹوٹے اور روکھی ہی -ساری مچھلی کھاڈالی میرے ذاتی تجربے میں ایسی نرم و ذائقہ دار مچھلی بہت ہی کم آئی ہے
اور صرف میں ہی نہیں بلکہ تمام ہی کی یہ رائے تھی ساتھ سیون اپ نےبھی کمال کر دیا تھا، اب ہم دوستوں کے ہاتھ کشمیری مٹن کڑاہی اور کچھ کے بلوچی چکن تکہ کی جانب بڑھے، میرا ہاتھ بلوچی چکن تکہ کی جانب تھا میں نے ابتداً تھوڑا لیا اور مجھے اُس کا ذائقہ بہت زیادہ مرعوب نہ کر سکا گو کہ تمام دوست واہ واہ واہ کر رہے تھے اور ذائقہ بھی کوئی بُرا نہ تھا ایک نیا تجربہ ایک نئی ڈش تھی (اِس کی شاید یہ وجہ بھی ہوسکتی ہے کہ میں
خیر اب صرف ایک ممکنہ صورت تھی اور وہ تھی مٹن کڑاہی دیکھنے میں تو لزیز معلوم ہو رہی تھی گوشت بھی اچھا دیکھائی دے رہا تھا میں نے اس اُمید سے لقمہ لیا کہ بس اب یہی اُمید ہے اور واقعی کیا عالی شان کشمیری مٹن کڑاہی تھی(گہی سے بنی روٹیاں بھی کمال کی تھی)۔۔۔سبحان اللہ۔۔۔گوشت کا ذائقہ تو میں اس کے متعلق کہہ سکتا ہوں کہ ملک پاکستان کے ۴ صوبوں ۲ ریاستوں کے اکثر حصوں میں کئی بارمیں مٹر گشتی کرنے کے باوجودمیں نے آج تک ایسا مٹن نہیں کھایا (مزے کی بات یہ بھی ہے کہ میں ابھی بھی اُس کا مزہ اپنے منہ میں محسوس کر سکتا ہوں)
جب دوست پرانے اور باتیں نئی ہوں تووقت اور کھانے دونوں کا مزہ دوبالا ہو جاتا ہے ہم نے رج کے کھانے کا مزہ و لطف لیا ساتھ میں پہلی بار مالش نے بھی جسم کو سرور دیا، آخر میں جب جیب خالی کرنے کی باری آئی تو واقعی جتنا ہم نے تناول کیا اُس اعتبار سے بہت مناسب تھا
میں ان تمام دوستوں کو یہی ریفر کروں گا کہ جو اچھے وقت و اچھی چیز کے متالاشی ہیں وہ ضرور ایک بار اس جگہ کو آزمائے اور اپنا تجربہ ہم تمام سے ساتھ شیئر کریں
Saturday, 16 April 2016
Remembering Past
When ever i saw this picture i always feel proud and satisfied from my life , i worked for it and my life gave me these precious moments ; In return
Friday, 8 April 2016
Dream Come True
To Jump from sky and into sea are of my dreams, one of them is true now wait for the other one
#CliffJumpingRocks
#Charna Island
#CliffJumpingRocks
#Charna Island
Monday, 21 March 2016
روح کی آواز
دو دن قبل روز مرہ کے کاموں سے فراغت کے بعد جب میں اپنے مکرمی و مشفق دوست برادرم حافظ محمد حسان امینی بھائی سے وقت ِ مقررہ پہ ملاقات کرنے ان کے ادارے پہنچا، ہمیشہ کی طرح جناب نے پُر وقار انداز میں خیر مقدم کیا اور یوں نشست پہ تشریف فرمانے کے بعد ہمیشہ کی طرح ابتدائی رسمی گفتگو پھرطعام کا سلسلہ ہوا اور بعد کو چائے نہ ہو حافظ صاحب کے ساتھ ایسا ممکن نہیں اور میں سچ کہوں تو چائے فکری، نظریاتی لوگوں کی فکری گفتگو کو شروع کرنے کا گویا آلارم ہے، جیسے ہی چائے کی آمد نے گھنٹی بجائی گفتگو کا آغاز ہوا،آغاز اگرچہ تلخ حقیقتوں سے ہوا،حال ہی میں حکماء،عدلیہ و اعلی افسران سے سرزد ہونے والی تاریخ کی شرمناک وبدترین غلطی کے تڈکرہ نے غصے کی فضا قائم کر رکھی تھی دورانِ گفتگو میں اپنے جزبات قابو میں نہ رکھ سکا تھا جبکہ حافظ صاحب نے ہمیشہ کی طرح بردباری و عقلمندی اور جزبات کا صحیح استعمال کرنے پہ زور دیتے ہوئے باتوں کو سمیٹتے ہوئے خلاصہ دو جملوں میں کہہ ڈالا۔۔۔میری ہمیشہ کی عادت ہے کہ جب بھی حا فظ صاحب سے اُن کے ادارے میں ملاقات ہوتی ہے تو بات چیت کے دوران موقع دیکھتے ہی میں اُن کے کمپوٹر کو ہتھیا لیتا ہوں اور اُس میں موجود ہم دوستوں کے پاکستان کی سیاحت کی تصاویر دیکھنے لگتا ہوں اور ہر دفعہ کچھ نئی تصاویر بذریعہ فیس بُک اپنے پاس سیو کرلیتا ہوں۔۔۔ ایساکرنے کی اہم وجہ آپ ہر تھوڑے بعدنئی ڈی پی /کور پیج دیکھتے ہیں تو اُس کا بھی انتظام کچھ اِسی طرح ہوتا ہے آخر تیسری دنیا میں بھی تو زندہ رہنا ہے۔۔۔ ہاں تو میں کہاں تھا۔۔۔ ہاں میری سمجھ میں اُس وقت نہیں آیا کہ موضوع کے وسیع ہونے اور کئی ضاویوں سے تجزیہ کیے بغیر آخر حاٖفظ صاحب جیسے ناقد سے کیسے اختصار ہوا تو بھائی سیدھی بات ہے کہ وجہ میں بنا کہ میرا دہیان اپنی نئی ڈی پی کی تلاش کی جانب لگا ہوا تھا اور تلاش میں محو ہونے کی بناء بس ہاں میں ہاں ملا رہا تھا اسی دوران زیر میں موجود تصویرآنکھوں کے سامنے آئی جسے دیکھتے ہی میں اور بھائی محترم واہ واہ واہ کی صدا لگانے لگے۔۔۔ پھر گفتگو کا نیا باب کھل گیا تھا ابھی کچھ سیکنڈوں پہلے غم و غصہ تھا اور اب اطمینان و فرحت،پرانے تذکرے و بلا ترد ہنسی نے طبیت کورونق و زندہ کر دیاتھا (باقی کی تفصیل بعد میں)۔
Sunday, 13 March 2016
Subscribe to:
Posts (Atom)
I travelled today about 14 km on Sharah e Faisal Karachi during Aftari hours , i found 140 peoples or groups sharing or managing aftari for ...
-
یہ خوبصورت نظارہ جامعہ نعیمیہ (گڑھی شاھو) لاہور کا ہے، اس تصویر کومیں نے جولائی۵۱۰۲ء کو اُس وقت عکس بند کیا کہ جب انجمن طلباء اسلام کے سا...
-
Very Soon https://www.youtube.com/channel/UC_hpimXqmSiY2JImHFqn6sQ Like - Subscribe and don't forget to hit the bell icon for u...











